14 اشعار

فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے

Fana kaisi baqa kaisi jab us ke aashna thahre

فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے

«فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرےکبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے

نہ ٹھہرا وصل، کاش اب قتل ہی پر فیصلا ٹھہرےکہاں تک دل مرا تڑپے کہاں تک دم مرا ٹھہرے

جفا دیکھو جنازے پر مرے آئے تو فرمایاکہو تم بے وفا ٹھہرے کہ اب ہم بے وفا ٹھہرے

تہ خنجر بھی منہ موڑا نہ قاتل کی اطاعت سےتڑپنے کو کہا تڑپے ، ٹھہرنے کو کہا ٹھہرے

زہے قسمت حسینوں کی بُرائی بھی بھلائی ہےکریں یہ چشم پوشی بھی تو نظروں میں حیا ٹھہرے

یہ عالم بیقراری کا ہے جب آغاز الفت میںدھڑکتا ہے دل اپنا دیکھئے انجام کیا ٹھہرے

حقیقت کھول دی آئینہ وحدت نے دونوں کینہ تم ہم سے جدا ٹھہرے ، نہ ہم تم سے جدا ٹھہرے

دل مضطر سے کہہ دو تھوڑے تھوڑے سب مزے چکھےذرا بہکے ذرا سنبھلے ذرا تڑپے ذرا ٹھہرے

شب وصلت قریب آنے نہ پائے کوئی خلوت میںادب ہم سے جدا ٹھہرے حیا تم سے جدا ٹھہرے

اٹھو جاؤ سدھا رو ، کیوں مرے مردے پہ روتے ہوٹھہرنے کا گیا وقت اب اگر ٹھہرے تو کیا ٹھہرے

نہ تڑپا چارہ گر کے سامنے اے درد یوں مجھ کوکہیں ایسا نہ ہو یہ بھی تقاضائے دوا ٹھہرے

ابھی جی بھر کے وصل یار کی لذت نہیں اٹھیکوئی دم اور آغوش اجابت میں دعا ٹھہرے

خیال یار آنکلا مرے دل میں تو یوں بولایہ دیوانوں کی بستی ہے یہاں میری بلا ٹھہرے

امیر آیا جو وقت بد تو سب نے راہ لی اپنیہزاروں سیکڑوں میں درد و غم دو آشنا ٹھہرے

— امیر مینائی