7 اشعار

اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں

Ajal sharma gayi samjhi ke mujh ko pyaar karte hain

اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں

«اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میںاجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں

مرا خط پھینک کر قاتل کے مُنہ پر طنز سے بولےخلاصہ سارے اس طومار کا یہ ہے کہ مرتے ہیں

ابھی اے جاں تو نے مرنے والوں کو نہیں دیکھاجیئے ہم تو دکھا دیں گے کہ دیکھ اس طرح مرتے ہیں

قیامت دور، تنہائی کا عالم، روح پر صدمہہمارے دن لحد میں دیکھیئے کیوں کر گزرتے ہیں

جو رکھ دیتی ہے شانہ آئینہ تنگ آ کے مشاطہادائیں بول اُٹھتی ہیں کہ دیکھو یوں سنورتے ہیں

چمن کی سیر ہی چھوٹی تو پھر جینے سے کیا حاصل؟گلا کاٹیں مرا صیاد ناحق پر کترتے ہیں

قیام اس بحرِ طوفاں خیز دنیا میں کہاں ہمدم؟حباب آ سا ٹھہرتے ہیں تو کوئی دم ٹھہرتے ہیں

— امیر مینائی