9 اشعار

یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

Ye badal jab baraste hain lab-e-kausar baraste hain

یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

«یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

خیالِ لب میں ابرِ دیدہ ہائے تر برستے ہیںیہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

خدا کے ہاتھ ہم چشموں میں ہے اب آبرو اپنیبھرے بیٹھے ہیں دیکھیں آج وہ کس پر برستے ہیں

ڈبو دیں گی یہ آنکھیں بادلوں کو ایک چھینٹے میںبھلا برسیں تو میرے سامنے کیونکر برستے ہیں

جہاں ان ابروؤں پر میل آیا کٹ گئے لاکھوںیہ وہ تیغیں ہیں جن کے ابر سے خنجر برستے ہیں

چھکے رہتے ہیں‌ مے سے جوش پر ہے رحمتِ ساقیہمارے میکدے میں غیب سے ساغر برستے ہیں

جو ہم برگشتۂ قسمت آرزو کرتے ہیں پانی کیزہے بارانِ رحمت چرخ سے پتھر برستے ہیں

غضب کا ابرِ خوں افشاں ہے ابرِ تیغِ قاتل بھیرواں ہے خون کا سیلاب لاکھوں سر برستے ہیں

سمائے ابرِ نیساں خاک مجھ گریاں کی آنکھوں میںکہ پلکوں سے یہاں بھی متصل گوہر برستے ہیں

وہاں ہیں سخت باتیں، یاں امیر آنسو پر آنسو ہیںتماشا ہے اِدھر، موتی اُدھر پتھر برستے ہیں

— امیر مینائی