6 اشعار

چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

Chhoote jo boo-e-gul ki tarah se chaman ko chhod

چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

«چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑچھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑمیلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ

ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھغربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ

کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دماب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ

تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہےاے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ

شاعر کو فِکر شعر میں راحت کہاں امیرآرام چاہتا ہے تو مشقِ سخن کو چھوڑ

— امیر مینائی