12 اشعار

دور سے آئے ہیں ہم اے ساکنان کوئے دوست

Dūr se ā'e haiñ ham ai sāknān-e-kū-e-dost

دور سے آئے ہیں ہم اے ساکنان کوئے دوست

«دور سے آئے ہیں ہم اے ساکنان کوئے دوست» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 51 سیکنڈ ہے۔

دور سے آئے ہیں ہم اے ساکنان کوئے دوستدو جگہ ہم کو بھی تھوڑی سی میان کوئے دوست

رہتے ہیں تسبیح میں تقدیس میں تحلیل میںقدسیوں سے کم نہیں ہیں ساکنان کوئے دوست

جھک گئی گردن گریباں کی طرف جب وقت فکرنحن اقرب سے ملا ہم کو نشان کوئے دوست

گلشن جنت کی کیا پروا ہے اے رضواں انہیںہیں جو مشتاق بہشت جاودان کوئے دوست

اے ہما بے فائدہ تو نے قدم رنجہ کیامستحق ان ہڈیوں کے ہیں سگان کوئے دوست

دیکھوں اے واعظ کسے سنتے ہیں دل سے سامعینوصف تو فردوس کا کر میں بیان کوئے دوست

جب کھلا تفسیر سے مضمون جنات نعیممیں یہ سمجھا ہے یہ قرآں میں بیان کوئے دوست

میری اشکوں سے جو دریا موج زن ہے رات دنمردم آبی بنے ہیں رہروان کوئے دوست

ہے نیا عالم ہے اس عالم سے وہ عالم جدااور ہی کچھ ہیں زمین و آسمان کوئے دوست

جب قدم رکھا زمیں پر آسماں پر جا پڑابارہا ہم نے کیا ہے امتحان کوئے دوست

نامہ بر میں جانتا ہوں پر بتا سکتا نہیںدل میں ہے لب تک نہیں آتا نشان کوئے دوست

چاہتے ہو داب لو اس کو بغل میں اے امیرؔبوستاں سعدیؔ کی ٹھہرا بوستان کوئے دوست

— امیر مینائی