5 اشعار

دل جُدا، مال جدا، جان جدا لیتے ہیں

Dil juda, maal juda, jaan juda lete hain

دل جُدا، مال جدا، جان جدا لیتے ہیں

«دل جُدا، مال جدا، جان جدا لیتے ہیں» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

دل جُدا، مال جدا، جان جدا لیتے ہیںاپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں

مجلسِ وعظ میں جب بیٹھتے ہیں ہم مے کشدخترِ رز کو بھی پہلو میں بٹھا لیتے ہیں

دھیان میں لا کے ترا سلسلۂ زلف درازہم شبِ ہجر کو کچھ اور بڑھا لیتے ہیں؟

ایک بوسے کے عوض مانگتے ہیں دل کیا خوبجی میں سوچیں تو وہ کیا دیتے ہیں کیا لیتے ہیں؟

اپنی محفل سے اُٹھاتے ہیں عبث ہم کو حضورچُپ کے بیٹھے ہیں الگ، آپ کا کیا لیتے ہیں؟

— امیر مینائی