6 اشعار

مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا

Mit ga'e ham, to mila ham ko thikana tera

مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا

«مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

جب تلک ہست تھے، دشوار تھا پانا تیرامٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا

نہ جہت تیرے لیئے ہے نہ کوئی جسم ہے توچشم ظاہر کو ہے مشکل نظر آنا تیرا

شش جہت چھان چُکے ہم تو کھُلا ہم پہ حالرگِ گردن سے ہے نزدیک ٹھکانا تیرا

اب تو پیری میں نہیں پوچھنے والا کوئیکبھی اے حسن جوانی! تھا زمانہ تیرا

اے صدف چاک کرے گا یہی سینہ اک دنتو یہ سمجھی ہے کہ گوہر ہے یگانا تیرا

دور اگلے شعراء کا تھا کبھی، اور امیرؔاب تو ہے ملک معانی میں زمانہ تیرا

— امیر مینائی