7 اشعار

میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

Main rota hoon, us ko hansi soojhti hai

میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

«میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہےمیں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

تمہیں حور اے شیخ جی سوجھتی ہےمجھے رشک حور اک پری سوجھتی ہے

یہاں تو میری جان پر بن رہی ہےتمہیں جانِ من دل لگی سوجھتی ہے

جو کہتا ہوں ان سے کہ آنکھیں ملاؤوہ کہتے ہیں تم کو یہی سوجھتی ہے

یہاں تو ہے آنکھوں میں اندھیر دنیاوہاں ان کو سرمہ مسی سوجھتی ہے

جو کی میں نے جوبن کی تعریف بولےتمہیں اپنے مطلب کی ہی سوجھتی ہے

امیر ایسے ویسے تو مضموں ہیں لاکھوںنئی بات کوئی کبھی سوجھتی ہے

— امیر مینائی