16 اشعار

ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا

Ham aaj peer hue kya kabhi shabab na tha

ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا

«ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

وہ کون تھا جو خرابات میں خراب نہ تھاہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا

شبِ فراق میں کیوں یارب انقلاب نہ تھایہ آسمان نہ تھا یا یہ آفتاب نہ تھا

لحاظ ہم سے نہ قاتل کا ہو سکا دمِ قتلسنبھل سنبھل کے تڑپتے وہ اضطراب نہ تھا

اُسے جو شوقِ سزا ہے مجھے ضرور ہے جرمکہ کوئی یہ نہ کہے قابلِ عذاب نہ تھا

شکایت اُن سے کوئی گالیوں کی کیا کرتاکسی کا نام کسی کی طرف خطاب نہ تھا

نہ پوچھ عیش جوانی کا ہم سے پیری میںملی تھی خواب میں وہ سلطنت شباب نہ تھا

دماغ بحث تھا کس کو وگر نہ اے ناصحدہن نہ تھا کہ دہن میں مرے جواب نہ تھا

وہ کہتے ہیں شبِ وعدہ میں کس کے پاس آناتجھے تو ہوش ہی اے خانماں خراب نہ تھا

ہزار بار گلا رکھ دیا تہِ شمشیرمیں کیا کروں تری قسمت ہی میں ثواب نہ تھا

فلک نے افسرِ خورشید سر پہ کیوں رکھاسبوئے بادہ نہ تھا ساغرِ شراب نہ تھا

غرض یہ ہے کہ ہو عیش تمام باعث مرگوگرنہ میں کبھی قابلِ خطاب نہ تھا

سوال وصل کیا یا سوال قتل کیاوہاں نہیں کے سوا دوسرا جواب نہ تھا

ذرا سے صدمے کی تاب اب نہیں وہی ہم میںکہ ٹکڑے ٹکڑے تھا دل اور اضطراب نہ تھا

کلیم شکر کرو حشر تک نہ ہوش آتاہوئی یہ خیر کہ وہ شوق بے نقاب نہ تھا

یہ بار بار جو کرتا تھا ذکر مے واعظپئے ہوئے تو کہیں خانماں خراب نہ تھا

امیر اب ہیں یہ باتیں جب اُٹھ گیا وہ شوخحضور یار کے منہ میں ترے جواب نہ تھا

— امیر مینائی