15 اشعار

تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا

To hans ke bole woh munh qabil-e-naqab na tha

تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا

«تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھاتو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا

شب وصال بھی وہ شوخ بے حجاب نہ تھانقاب اُلٹ کے بھی دیکھا تو بے نقاب نہ تھا

لپٹ کے چوم لیا منہ، مٹا دیا انکارنہیں کا اُن کے سوا اس کے کچھ جواب نہ تھا

مرے جنازے پہ اب آتے شرم آتی ہےحلال کرنے کو بیٹھے تھے جب حجاب نہ تھا

نصیب جاگ اُٹھے سو گئے جو پانوں مرےتمہارے کوچے سے بہتر مقام خواب نہ تھا

غضب کیا کہ اسے تو نے محتسب توڑاارے یہ دل تھا مرا شیشۂ شراب نہ تھا

زمانہ وصل میں لیتا ہے کروٹیں کیا کیافراق یار کے دن ایک انقلاب نہ تھا

تمہیں نے قتل کیا ہے مجھے جو تنتے ہواکیلے تھے ملک الموت ہم رکاب نہ تھا

دعائے توبہ بھی ہم نے پڑھی تو مے پی کرمزہ بھی ہم کو کسی شے کا بے شراب نہ تھا

میں روئے یار کا مشتاق ہو کے آیا تھاترے جمال کا شیدا تو اے نقاب نہ تھا

بیاں کی جو شبِ غم کی بے کسی، تو کہاجگر میں درد نہ تھا، دل میں اضطراب نہ تھا

وہ بیٹھے بیٹھے جو دے بیٹھے قتل عام کا حکمہنسی تھی اُن کی کسی پر کوئی عتاب نہ تھا

جو لاش بھیجی تھی قاصد کی ، بھیجتے خط بھیرسید وہ تو مرے خط کی تھی ، جواب نہ تھا

سرور قتل سے تھی ہاتھ پانوں کو جنبشوہ مجھ پہ وجد کا عالم تھا، اضطراب نہ تھا

ثبات بحر جہاں میں نہیں کسی کو امیراِدھر نمود ہوا اور اُدھر حباب نہ تھا

— امیر مینائی