7 اشعار

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

Hans ke farmate hain woh dekh ke haalat meri

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری

«ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میریکیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میریمیری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

میں نے آغوش تصور میں بھی کھینچا تو کہاپس گئی پس گئی بے درد نزاکت میری

آئینہ صبح شب وصل جو دیکھا تو کہادیکھ ظالم یہ تھی شام کو صورت میری

یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلےآج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری

حسن اور عشق ہم آغوش نظر آ جاتےتیری تصویر میں کھنچ جاتی جو حیرت میری

کس ڈھٹائی سے وہ دل چھین کے کہتے ہیں امیرؔوہ مرا گھر ہے رہے جس میں محبت میری

— امیر مینائی