گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو
کلام: امیر مینائی
گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہوموسیٰ سا کوئی طالب دیدار بھی تو ہو
دل درد ناک چاہیے لاکھوں ہیں خوبروعیسیٰ ہیں سیکڑوں کوئی بیمار بھی تو ہو
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہوموسیٰ سا کوئی طالب دیدار بھی تو ہو
دل درد ناک چاہیے لاکھوں ہیں خوبروعیسیٰ ہیں سیکڑوں کوئی بیمار بھی تو ہو
درد پا ہوگا شکست کاسۂ سر کا جوابغافلوں کو دے گی میری لاش ٹھوکر کا جواب
شوق سے لکھیں مرے عصیاں فرشتے رات دنایک رحمت اس کی ہے اس سارے دفتر کا جواب
رند خراب تیرا وہ مے پیے ہوئے ہےمدت سے جان جس پر زاہد دیے ہوئے ہے
کس شان سے وہ مے کش آتا ہے مے کدہ میںقاضی سبو صراحی مفتی لیے ہوئے ہے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
تری بانکی چتون نے چن چن کے مارےنکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے