11 اشعار

مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے

Mujh Mast Ko May Ki Boo Bahut Hai

مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے

«مجھ مست کو مے کی بو بہت ہے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

مجھ مست کو مے کی بو بہت ہےدیوانے کو ایک ہو بہت ہے

موتی کی طرح جو ہو خدادادتھوڑی سی بھی آبرو بہت ہے

جاتے ہیں جو صبر و ہوش جائیںمجھ کو اے درد تو بہت ہے

مانند کلیم بڑھ نہ اے دلیہ درد کی گفتگو بہت ہے

بے کیف ہو مے تو خم کے خم کیااچھی ہو تو اک سبو بہت ہے

کیا وصل کی شب میں مشکلیں ہیںفرصت کم آرزو بہت ہے

منظور ہے خون دل جو اے یاساپنے لیے آرزو بہت ہے

اے نشتر غم ہو لاکھ تن خشکتیرے دم کو لہو بہت ہے

چھیڑے وہ مژہ تو کیوں میں روؤںآنکھوں میں خلش کو مو بہت ہے

غنچے کی طرح چمن میں ساقیاپنا ہی مجھے سبو بہت ہے

کیا غم ہے امیرؔ اگر نہیں مالاس وقت میں آبرو بہت ہے

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں