31 اشعار

ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیں

Hum loot-te hain woh so rahe hain

ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیں

«ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیں» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

ہم لوٹتے ہیں وہ سو رہے ہیںکیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں

کیا رنگ جہاں میں ہو رہے ہیںدو ہنستے ہیں چار رو رہے ہیں

دنیا سے الگ جو ہو رہے ہیںتکیوں میں مزے سے سو رہے ہیں

پہنچی ہے ہماری اب یہ حالتجو ہنستے تھے وہ بھی رو رہے ہیں

تنہا تہ خاک بھی نہیں ہمحسرت کے ساتھ سو رہے ہیں

سوتے ہیں لحد میں سونے والےجو جاگتے ہیں وہ رو رہے ہیں

ارباب کمال چل بسے سبسو میں کہیں ایک دو رہے ہیں

پلکوں کی جھپک دکھا کے یہ بتدل میں نشتر چبھو رہے ہیں

مجھ داغ نصیب کی لحد پرلالے کا وہ بیج بو رہے ہیں

پیری میں بھی ہم ہزار افسوسبچپن کی نیند سو رہے ہیں

دامن سے ہم اپنے داغ ہستیآب خنجر سے دو رہے ہیں

میں جاگ رہا ہوں اے شب غمپر میرے نصیب سو رہے ہیں

روئیں گے ہمیں رلانے والےڈوبیں گے وہ جو ڈبو رہے ہیں

اے حشر مدینے میں نہ کر شورچپ چپ سرکار سو رہے ہیں

آئینے پہ بھی کڑی نگاہیںکس پر یہ عتاب ہو رہے ہیں

بھاری ہے جو موتیوں کا مالاآٹھ آٹھ آنسو وہ رو رہے ہیں

دل چھین کے ہو گئے ہیں غافلفتنے وہ جگا کے سو رہے ہیں

ہے غیر کے گھر جو ان کی دعوتہم جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں

صد شکر خیال ہے اسی کاہم جس سے لپٹ کے سو رہے ہیں

ہو جائیں نہ خشک داغ کے پھولآنسو ان کو بھگو رہے ہیں

آئے گی نہ پھر کے عمر رفتہہم مفت میں جان کھو رہے ہیں

کیا گریہ بے اثر سے حاصلاس رونے پہ ہم تو رو رہے ہیں

فریاد کہ ناخداۓ کشتیکشتی کو مری ڈبو رہے ہیں

کیوں کرتے ہیں غم گسار تکلیفآنسو مرے منہ کو دھو رہے ہیں

محفل برخاست ہے پتنگےرخصت شمعوں سے ہو رہے ہیں

ہے کوچ کا وقت آسماں پرتارے کہیں نام کو رہے ہیں

ان کی بھی نمود ہے کوئی دموہ بھی نہ رہیں گے جو رہے ہیں

دنیا کا یہ رنگ اور ہم کوکچھ ہوش نہیں ہے سو رہے ہیں

ٹھہرو دم‌ نزع دو گھڑی اوردو چار نفس ہی تو رہے ہیں

پھول ان کو پنہا پنہا کے اغیارکانٹے مرے حق میں بو رہے ہیں

زانو پہ امیرؔ سر کو رکھےپہروں گزرے کہ رو رہے ہیں

— امیر مینائی