6 اشعار

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

Uski hasrat hai jise dil se mita bhi na sakoon

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں

«اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوںڈھونڈنے اس کو چلا ہوں جسے پا بھی نہ سکوں

ڈال کے خاک میرے خون پہ قاتل نے کہاکچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں

ضبط کمبخت نے یاں آ کے گلا گھونٹا ہےکہ اسے حال سناؤں تو سنا بھی نہ سکوں

نقش پا دیکھ تو لوں لاکھ کروں گا سجدےسر مرا عرش نہیں ہے جو جھکا بھی نہ سکوں

بے وفا لکھتے ہیں وہ اپنے قلم سے مجھ کویہ وہ قسمت کا لکھا ہے جو مٹا بھی نہ سکوں

اس طرح سوئے ہیں سر رکھ کے مرے زانو پراپنی سوئی ہوئی قسمت کو جگا بھی نہ سکوں

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں