13 اشعار

کسی زہرہ شمائل کا تصور ہے مرے دل میں

Kisi Zehra Shamaail ka tasavvur hai mere dil mein

کسی زہرہ شمائل کا تصور ہے مرے دل میں

«کسی زہرہ شمائل کا تصور ہے مرے دل میں» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

کسی زہرہ شمائل کا تصور ہے مرے دل میںمنجم یا قمر کا ہے گزر خورشید منزل میں

قدم رنجہ تو فرماؤ کوئی رہنے نہ پائے گانکل جائیں گی جتنی آرزوئیں ہیں مرے دل میں

پئے گی خوب اے قاتل غضب کا رنگ لائے گیلگائی ہے جو مہندی پیس اس کو خون بسمل میں

یہی حیرت کا عالم ہے تو نظارہ کہاں مجنوںنکل بھی آئے محمل سے تو پھر لیلیٰ ہے محمل میں

دوئی اٹھ جائے تو جھگڑا کہاں شیخ و برہمن کابت آئیں سجدے کرتے شوق سے اس کعبۂ دل میں

تڑپتا ہے دل صیاد بھی اس کے تڑپنے پرقیامت کا اثر ہے اضطراب مرغ بسمل میں

یہ بیماری محبت کی کوئی نیرنگ ہے اے دلجہاں آیا مسیحا درد دونا ہو گیا دل میں

دہان زخم نے کس کس مزے سے اس کو چوسا ہےلب شیریں کی لذت ہے زبان تیغ قاتل میں

جدا ہوتی نہیں گردن سے قاتل زور کرتا ہےزبان تیغ نے لذت یہ پائی خون بسمل میں

ذرا محمل سے ہٹ کر خاک اڑا او بے ادب مجنوںخیال اتنا تو کرنا چاہیے کہ کون محمل میں

لگا کر وار اوچھا پھر نہ دیکھا اس طرف ہم نےقضا روتی رہی بیٹھی ہوئی پہلوئے بسمل میں

نہ آمادہ ہوا ہو کوئی غمزہ اس کی شوخی پرالٰہی خیر بجلی سی چمکتی ہے مرے دل میں

امیرؔ اس کی تجلی گاہ ہے دنیا جو آنکھیں ہوںوہی گل ہے گلستاں میں وہی ہے شمع محفل میں

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں