12 اشعار

تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

Teer khane ki hawas hai to jigar paida kar

تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

«تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کرسرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

کوہ کن کوہ کنی شیوۂ عشاق نہیںہے جو عاشق دل معشوق میں گھر پیدا کر

رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کانکہت گل کی طرح شوق سفر پیدا کر

قطرۂ اشک بنے گوہر گوش جاناںآبرو اتنی تو اے دیدۂ تر پیدا کر

اڑ چلے گا ابھی اے یار ذرا بال تو کھولتجھ کو بننا ہے پری زاد تو پر پیدا کر

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیںشوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

میرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کراے فلک آہ میں اتنا ہی اثر پیدا کر

آخرت میں عمل نیک ہی کام آئیں گےپیش ہے تجھ کو سفر زاد سفر پیدا کر

عشق حسن نمکیں کا جو اٹھانا ہے مزاپہلے کچھ ذائقۂ زخم جگر پیدا کر

اپنی گردش پہ بہت ہے تجھے اے چرخ گھمنڈجب میں جانوں کہ شب غم کی سحر پیدا کر

صدمے الفت کے اٹھانے ہیں الٰہی مشکلدل اگر ایک دیا لاکھ جگر پیدا کر

عشق بازی کا اگر حوصلہ رکھتا ہے امیرؔدل جو لوہے کا تو پتھر کا جگر پیدا کر

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں