12 اشعار

ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق

Malak-ul-maut hain darban dar-e-khana-e-ishq

ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق

«ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

جادۂ راہِ عدم ہے رہِ کاشانۂ عشقملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق

مرکزِ خاک ہے دُردِ تہِ پیمانۂ عشقآسماں ظرف بر آوردۂ میخانۂ عشق

کم بلندی میں نہیں عرش سے کاشانۂ عشقدونوں عالم ہیں دو مصراع درِ خانۂ عشق

ہے جو واللیل سرا پردۂ کاشانۂ عشقسورۂ شمس ہے قندیل درِ خانۂ عشق

دل مرا شیشہ ہے آنکھیں مری پیمانۂ عشقجسم با جوشِ محبت سے ہے میخانۂ عشق

ہم تھے اور پیشِ نظر جلوۂ مستانۂ عشقجس زمانے میں نہ محرم تھا نہ بیگانہ عشق

ہم وہ فرہاد تھے کاٹا نئی صورت سے پہاڑحسن کا گنج لیا کھود کے ویرانۂ عشق

کچھ گرہ میں نہیں گرمی کے سوا مثلِ سپندبرگ و بر دود و شرر ہوں جو اُگے دانۂ عشق

عین مستی میں ملے ہیں مجھے گوشِ شنواسن رہا ہوں میں صدائے لبِ پیمانۂ عشق

آ رہے باغِ جناں سے جو زمیں پر آدمفی الحقیقت تھی وہ اِک لغزشِ مستانۂ عشق

معتقد کون نہیں کون نہیں اس کا مریدپیر ہفتاد و دو ملت کا ہے دیوانۂ عشق

دل نے تسبیح بنا کر وہ کئے زیبِ گُلوہاتھ آئے جو کوئی گوہرِ یک دانۂ عشق

— امیر مینائی