11 اشعار

یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم

Ye kaleja kahan se laein ham

یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم

«یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

تیرے جور و ستم اُٹھائیں ہمیہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم

جی میں ہے اب وہاں نہ جائیں ہمدل کی طاقت بھی آزمائیں ہم

نالے کرتے نہیں یہ الفت میںباندھتے ہیں تری ہوائیں ہم

اب لب یار کیا ترے ہوتےلب ساغر کو منہ لگائیں ہم

دل میں تم، دل ہے سینہ سے خود گمکوئی پوچھے تو کیا بتائیں ہم

آب شمشیر یار اگر مل جائےاپنے دل کی لگی بجھائیں ہم

اب جو منہ موڑیں بندگی سے تریاے بت اپنے خدا سے پائیں ہم

زندگی میں ہے موت کا کھٹکاقصر کیا مقبرہ بنائیں ہم

توبۂ مے سے کیا پشیماں ہیںزاہد و دیکھ کر گھٹائیں ہم

دل میں ہے مثل ہیزم و آتشجو گھٹائے اُسے بڑھائیں ہم

زار سے زار ہیں جہاں میں امیردل ہی بیٹھے جو لطف اٹھائیں ہم

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں