9 اشعار

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے

Qibla-e-dil Ka'ba-e-jāñ aur hai

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے

«قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہےسجدہ گاہ اہل عرفاں اور ہے

ہو کے خوش کٹواتے ہیں اپنے گلےعاشقوں کی عید قرباں اور ہے

روز و شب یاں ایک سی ہے روشنیدل کے داغوں کا چراغاں اور ہے

خار دکھلاتی ہے پھولوں کی بہاربلبلو اپنا گلستاں اور ہے

قید میں آرام آزادی وبالہم گرفتاروں کا زنداں اور ہے

بحر الفت میں نہیں کشتی کا کامنوح سے کہہ دو یہ طوفاں اور ہے

کس کا اندیشہ ہے برق و سیل سےاپنے خرمن کا نگہباں اور ہے

درد وہ دل میں وہ سینہ پر ہے داغجس کا مرہم جس کا درماں اور ہے

کعبہ رو محراب ابرو اے امیرؔاپنی طاعت اپنا ایماں اور ہے

— امیر مینائی