4 اشعار

نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

Nigah neechi kiye woh samne madfan ke baithe hain

نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

«نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

ملا کر خاک میں بھی ہائے شرم اُنکی نہیں جاتینگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

بڑے ہی قدر داں کانٹے ہیں صحرائے مُحبت کےکہیں گاہک گریباں کے، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں

وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پراُدھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، اِدھر ہم تن کے بیٹھے ہیں

امیر ، اچھی غزل ہے داغ کی، جسکا یہ مصرع ہے،بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں

— امیر مینائی