8 اشعار

گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو

Ghar ghar tajalliyāñ haiñ talabgār bhī to ho

گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو

«گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی» میں 5 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہوموسیٰ سا کوئی طالب دیدار بھی تو ہو

دل درد ناک چاہیے لاکھوں ہیں خوبروعیسیٰ ہیں سیکڑوں کوئی بیمار بھی تو ہو

گر ہم نہیں تو رونق بازار عشق کیااے حسن خود فروش خریدار بھی تو ہو

پردے میں چاہتا ہے کہ ہنگامہ ہو بپااے آفتاب حشر نمودار بھی تو ہو

اتنی اداس صحبت مے واہ مے کشودست سبو میں شیخ کی دستار بھی تو ہو

زاہد امید رحمت حق اور ہجو مےپہلے شراب پی کے گنہ گار بھی تو ہو

سوؤں میں آ کے دھوپ سے پاؤں اماں مگرراضی تمہارا سایۂ دیوار بھی تو ہو

ساقی اداس کیوں نہ ہو بزم مے و سبومے خانہ میں امیرؔ سا مے خوار بھی تو ہو

— امیر مینائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں