7 اشعار

سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتارہا

Sab tadapne talmalane ka maza jata raha

سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتارہا

«سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتارہا» امیر مینائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

ایک دلِ ہمدم، مرے پہلو سے، کیا جاتا رہاسب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا

سب کرشمے تھے جوانی کے، جوانی کیا گئیوہ اُمنگیں مِٹ گئیں، وہ ولوَلا جاتا رہا

درد باقی، غم سلامت ہے، مگر اب دل کہاںہائے وہ غم دوست، وہ درد آشنا جاتا رہا

آنے والا، جانے والا، بیکسی میں کون تھاہاں مگر اک دم، غریب آتا رہا جاتا رہا

آنکھ کیا ہے، موہنی ہے، سحر ہے، اعجاز ہےاک نگاہِ لطف میں سارا گِلا جاتا رہا

جب تلک تم تھے کشیدہ، دل تھا شکووں سے بھراتم گَلے سے مِل گئے، سارا گلا جاتا رہا

کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا، امیرجانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا

— امیر مینائی