تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
کلام: امیر مینائی
تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کرسرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
کوہ کن کوہ کنی شیوۂ عشاق نہیںہے جو عاشق دل معشوق میں گھر پیدا کر
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے امیر مینائی
مہمان شاعر: امیر مینائی
تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کرسرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
کوہ کن کوہ کنی شیوۂ عشاق نہیںہے جو عاشق دل معشوق میں گھر پیدا کر
تیرے جور و ستم اُٹھائیں ہمیہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم
جی میں ہے اب وہاں نہ جائیں ہمدل کی طاقت بھی آزمائیں ہم