7 اشعار

کبھی کبھار جو اپنے گھر جاتا ہوں میں

Kabhi kabhaar jo apne ghar jaata hoon main

کبھی کبھار جو اپنے گھر جاتا ہوں میں

«کبھی کبھار جو اپنے گھر جاتا ہوں میں» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

کبھی کبھار جو اپنے گھر جاتا ہوں میںاک آسیب کے کہنے پر جاتا ہوں میں

دل و دماغ پہ دستک ہوتی رہتی ہےخود میں جھانکتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں میں

مجھے ہجوم میں رہنے دو،تمہیں علم نہیںتنہائی میں بھیڑ سے بھر جاتا ہوں میں

نیند آنے تک اپنے ساتھ گزارتا ہوںسوجانے کے بعد کدھر جاتا ہوں میں

بعد میں بھی تو وقت نکال کے آؤ گےفرصت ہے تو پہلے مر جاتا ہوں میں

جھیل کو بھی حیرانی تو ہوتی ہو گیکیسے چاند کے پار اتر جاتا ہوں میں

جیسے میں دنیا کا آخری آدمی ہوںخود سے ملنے ادھر ادھر جاتا ہوں میں

— انجم سلیمی