6 اشعار

ہے زندگی کی طرح گرچہ آنی جانی موت

Hai zindagi ki tarah garchay aani jaani maut

ہے زندگی کی طرح گرچہ آنی جانی موت

«ہے زندگی کی طرح گرچہ آنی جانی موت» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ہے زندگی کی طرح گرچہ آنی جانی موتپڑی ہوئی ہے مگر سب کو موت، یعنی موت

کسی نے نوچ لئے اس کے بال و پر شائدزمیں پہ رینگتی پھرتی ہے آسمانی موت

سیاہ پڑتی ہوئی آنکھ میں جھماکا ہوااتر رہی ہے رگ و پے میں ارغوانی موت

کہاں پہ کیسے،کسے بے خبر دبوچنا ہےاک ایک سانس سے واقف ہے یہ گیانی موت

کوئی بزرگ بتائے گا لمس کے معنی ؟نئے لغت میں تو لکھا ہے ،ناگہانی موت

ہمیں سکوت کی ترسیل سے علاقہ ہےہماری ٹھیک سے کرتی ہے ترجمانی ،موت

— انجم سلیمی