ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں
کلام: انجم سلیمی
ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوںابھی میں اپنے حجابات میں پڑا ہوا ہوں
مجھے یقیں ہی نہیں آ رہا کہ یہ میں ہوںعجب توہم و شبہات میں پڑا ہوا ہوں
تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی
مہمان شاعر: انجم سلیمی
ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوںابھی میں اپنے حجابات میں پڑا ہوا ہوں
مجھے یقیں ہی نہیں آ رہا کہ یہ میں ہوںعجب توہم و شبہات میں پڑا ہوا ہوں
میں جب وجود سے ہوتے ہوئے گزرتا ہوںخود اپنے آپ پہ روتے ہوئے گزرتا ہوں
اسی لیے تو مجھے تو دکھائی دیتا نہیںمیں تیرے خواب سے سوتے ہوئے گزرتا ہوں