8 اشعار

موت کیا پوری ہوچکی تھی مری ؟

Maut kya poori ho chuki thi meri?

موت کیا پوری ہوچکی تھی مری ؟

«موت کیا پوری ہوچکی تھی مری ؟» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

موت کیا پوری ہوچکی تھی مری ؟قبر میں آنکھ کھل گئی تھی مری!

سارا عالم رکا ہوا تھا وہاںاور بس نبض چل رہی تھی مری

پہلے پہلے کوئی نہ تھا مجھ میںمیں تھا یا پھر فسردگی تھی مری

شاہ رگ سے گزر کے آیا ہوںوہ بھی خالی پڑی ہوئی تھی مری

جانے کس کو سراہتے رہے لوگمجھ میں کُچھ تھا تو بس کمی تھی مری

سب کے شانوں پہ ایک چہرہ تھاجن پہ صورت بنی ہوئی تھی مری

پاؤں کس خاک پر پڑا کہ جبیںآسماں پر جھکی ہوئی تھی مری

جب جڑوں سے مُجھے اکھاڑا گیاشاخ اک سبز ہو رہی تھی مری

— انجم سلیمی