میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں
کلام: عرش صدیقی
میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوںوہ پوچھ رہا ہے کہ کسے ڈھونڈ رہا ہوں
ماضی کے بیاباں میں جو گم ہو گیا مجھ سےمیں حال کے جنگل میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوںوہ پوچھ رہا ہے کہ کسے ڈھونڈ رہا ہوں
ماضی کے بیاباں میں جو گم ہو گیا مجھ سےمیں حال کے جنگل میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں
تری رہ گزر کو میں یوں چھوڑ آیاکہ اک بے نوا کی تباہی کا تجھ پر نہ الزام آئے
میں سمجھا تھا یوں شہر کی رونقوں میں الجھ کرتری بے نیازی کے آسیب سے بچ رہوں گا