8 اشعار

بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا

Band aankhoN se na husn-e-shab ka andaza laga

بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا

«بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگامحمل دل سے نکل سر کو ہوا تازہ لگا

دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیرگھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا

ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا

ہر طرف سے آئے گا تیری صداؤں کا جوابچپ کے چنگل سے نکل اور ایک آوازہ لگا

سر اٹھا کر چلنے کی اب یاد بھی باقی نہیںمیرے جھکنے سے میری ذلت کا اندازہ لگا

لفظ معنی سے گریزاں ہیں تو ان میں رنگ بھرچہرہ ہے بے نور تو اس پر کوئی غازہ لگا

آج پھر وہ آتے آتے رہ گیا اور آج پھرسر بسر بکھرا ہوا ہستی کا شیرازہ لگا

رحم کھا کر عرشؔ اس نے اس طرف دیکھا مگریہ بھی دل دے بیٹھنے کا مجھ کو خمیازہ لگا

— عرش صدیقی