9 اشعار

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا

Ek teri be-rukhi se zamana khafa hua

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا

«اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوااے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا

دریوزہ گر سمجھ کے تو تھی ملتفت حیاتوہ یوں کہو کہ دامن دل ہی نہ وا ہوا

ڈوبا کچھ اس طرح سے مرا آفتاب دلسب کچھ ہوا یہ پھر نہ سحر آشنا ہوا

یوں اس کے در پہ بیٹھے ہیں جیسے یہیں کے ہوںہائے یہ درد عشق جو زنجیر پا ہوا

چھینی ہے عشق نے تب و تاب‌ دماغ و دلمیں کیسے شاہ زور سے زور آزما ہوا

گھر سے چلو تو باندھ کے سر سے کفن چلوشہر وفا سے دشت فنا ہے ملا ہوا

دل دے کے خوش ہوں میں کہ حفاظت کا غم گیاتجھ سے قریب ہے وہ جو مجھ سے جدا ہوا

لب سے لگا تو بھول گئے ہم غم حیاتساغر میں کوئی تجھ سا حسیں ہے چھپا ہوا

پی ہم نے خوب عرشؔ کشید نگاہ و دلکس میکدے کا در تھا جو ہم پر نہ وا ہوا

— عرش صدیقی