دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو
کلام: عرش صدیقی
دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کوجینا ہے مجھے تازہ ہوا چاہئے مجھ کو
آزار بھی تھے سب سے زیادہ مری جاں پرالطاف بھی اوروں سے سوا چاہئے مجھ کو
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کوجینا ہے مجھے تازہ ہوا چاہئے مجھ کو
آزار بھی تھے سب سے زیادہ مری جاں پرالطاف بھی اوروں سے سوا چاہئے مجھ کو
روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیںجسم افلاک میں ہم صورت جاں رہتے ہیں
ہیں دل دہر میں ہم صورت امید نہاںمثل ایماں رخ ہستی پہ عیاں رہتے ہیں
خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوںبڑھے نہ آگے در کوئے یار سے برسوں
چلی ہے اہل جنوں کی خدائے کعبہ سےکہ اس دیار میں بھٹکے ہیں دل جلے برسوں