9 اشعار

عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے

Ayān hai be-rukhī chiton se aur ghussa nigāhon se

عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے

«عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سےپیام خامشی اور وہ بھی دو دو نشر گاہوں سے

وبال جاں ہے ایسی زندگی جس میں تلاطم ہومٹا لوں حوصلے پھر توبہ کر لوں گا گناہوں سے

فضا محدود کب ہے اے دل وحشی فلک کیسانلاہٹ ہے نظر کی دیکھتے ہیں جو نگاہوں سے

حقیقت میں نگاہوں سے کوئی منزل نہیں بچتیگزرتے دیکھے ہیں گوشہ نشیں تک شاہراہوں سے

تہی دستان قسمت کو نہ لینا تھا نہ دینا تھاحساب زندگی کیا ہے یہ پوچھو بادشاہوں سے

ہمیں تو جلتے دل کی روشنی میں آگے بڑھنا ہےہٹا دو قمقمے بجلی کے نا ہموار راہوں سے

مرے نالوں کے سب شاکی کوئی ان کو نہیں کہتاکھرچتے رہتے ہیں جو زخم دل خونی نگاہوں سے

پلا دو زہر غم دل کو نہ چھوڑے گر ہوس کاریگنہ وہ ایک اچھا جو بچا لے سو گناہوں سے

ہمیں کچھ آرزوؔ پھیر ان کی باتوں کا سمجھتے ہیںجو حق پوشی میں سچ کو جھوٹ کرتے ہیں گواہوں سے

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں