18 اشعار

انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظر

Inqilābāt ne kī amn-e-jahān pe jo nazar

انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظر

«انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظر» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظرمسئلہ پیش ہوا، صبر وشکیبائی کا

رنگ یہ دیکھ کے یورپ کے مدبر گھبراۓجلد سامان کیا ، انجمن آرائی کا

بزم تہذیب میں پیدا ہوئی بے چینی سیکچھ حماقت سے چلا زور ، نہ دانائی کا

آسٹریا نے بس اک بار بدل کر پہلومدعا فوت کیا انجمن آراہی کا

جرمنی منتظرِ وقت تھا اک مدت سےاور سبب مل بھی گیا حوصلہ افزائی کا

آسٹریا سے کہا ۔۔ ہو نہ ہراساں دل میںمیں ترے حق میں ہوں مونسِ غم ِ تنہائی کا

جو شمس قہر میں ، جامے گر ہوا یوں باہرفصل گل میں ہو جو عالم کسی سودائی کا

دفعتا چونک پڑا شاہد رعناۓ فرانسچھٹ گیا ہاتھ سے آئینہ خود آراہی کا

دلبری بھول گئے ناز ونزاکت والےآپڑا وقت جو ہاتھوں کی توانائی کا

لب جاں بخش سے برطانیہ کی آئی صداکہ یہی وقت ہے اندازِ مسیحائی کا

ٹالنے سے مگر آئی ہوئی آفت نہ ٹلیہوا انکار نصیحت کی پزیرائی کا

خاکِ برلن سے ہوۓ آگ کے شعلے وہ بلندشفقی رنگ ہوا گنبدِ مینائی کا

امتحاں گاہ نظر آئی مہذب دنیاولولہ بڑھنے لگا معرکہ آرائی کا

سنگ و فولاد بنے ،قلب ،بنی آدم کےخون جائز ہوا بھائی کے لیئے بھائی کا

نہ تو باقی ہے محبت ، مروت، نہ وفاچشمہ آنکھوں سے ہوا دی شناسائی کا

ظالموں نے جو ،کَسی ، ظلم و تعدی پہ کمرنہ کیا پاس حسینوں کی بھی رعنائی کا

پوپ صاحب کی بھی سنتا نہیں کوئی اب تووقت ہے پیش خدا ، ناصیہ فرسائی کا

آرزو خیر طلب ہم تو اسی کے ہوں گےجس کو ہے پاس ، لحاظ اپنی دل آرائ کا

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں