عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے
کلام: آرزو لکھنوی
عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سےپیام خامشی اور وہ بھی دو دو نشر گاہوں سے
وبال جاں ہے ایسی زندگی جس میں تلاطم ہومٹا لوں حوصلے پھر توبہ کر لوں گا گناہوں سے
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سےپیام خامشی اور وہ بھی دو دو نشر گاہوں سے
وبال جاں ہے ایسی زندگی جس میں تلاطم ہومٹا لوں حوصلے پھر توبہ کر لوں گا گناہوں سے