9 اشعار

پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا

Phir jo paṛnā thā qismat mein wo hasb-e-ma'mool paṛā

پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا

«پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑاخندۂ گل سے اڑا وہ شرارہ خرمن دل پر پھول پڑا

دیکھ ادھر او نیند کے ماتے کس کی اچانک یاد آئیبیچ سے ٹوٹی ہے انگڑائی ہاتھ اٹھتے ہی جھول پڑا

حسن و عشق کی ان بن کیا ہے دل کے پھنسانے کا پھندااپنے ہاتھوں خود آفت میں جا کے یہ نامعقول پڑا

کون کہے قسمت پلٹی یا مت پلٹی سیلانی کیرستہ کاٹ کے جانے والا آج ادھر بھی بھول پڑا

حال نہیں جینے کے قابل آس نہیں مرنے دیتیایڑیاں رگڑے آخر کب تک خاک پر اک مقتول پڑا

جتنے حسن آباد میں پہنچے ہوش و خرد کھو کر پہنچےمال بھی تو اتنے کا نہیں اب جتنا کچھ محصول پڑا

راہ وفا تھی ٹیڑھی بگڑی تھی ہر گام افتاد نئیپاؤں کسی کا ٹوٹ گیا اور ہاتھ کسی کا جھول پڑا

باغ میں گلچیں ہے نہ ہے مالی بجلی ہے نہ فلک پہ سحابعہد خزاں میں جلا ہے نشیمن آ کے کہاں سے پھول پڑا

پاؤں کی طاقت طاق ہوئی تو بند کی آنکھ اور جا پہنچےآرزوؔ اس کو خوب کیا کم راستے میں جو طول پڑا

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں