اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا
کلام: آرزو لکھنوی
اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جاآنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جا
جانے سے پہلے بے وفا شب کو سحر بنائے جادل کو بجھا کے کیا چلا شمع کو بھی بجھائے جا
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جاآنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جا
جانے سے پہلے بے وفا شب کو سحر بنائے جادل کو بجھا کے کیا چلا شمع کو بھی بجھائے جا
انقلابات نے کی امن جہاں پہ جو نظرمسئلہ پیش ہوا، صبر وشکیبائی کا
رنگ یہ دیکھ کے یورپ کے مدبر گھبراۓجلد سامان کیا ، انجمن آرائی کا