9 اشعار

وہ سر بام کب نہیں آتا

Woh sar-e-baam kab nahin aata

وہ سر بام کب نہیں آتا

«وہ سر بام کب نہیں آتا» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

وہ سر بام کب نہیں آتاجب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتا

بہر تسکیں وہ کب نہیں آتااعتبار آہ اب نہیں آتا

چپ ہے شکوؤں کی ایک بند کتاباس سے کہنے کا ڈھب نہیں آتا

ان کے آگے بھی دل کو چین نہیںبے ادب کو ادب نہیں آتا

زخم سے کم نہیں ہے اس کی ہنسیجس کو رونا بھی اب نہیں آتا

منہ کو آ جاتا ہے جگر غم سےاور گلہ تا بہ لب نہیں آتا

بھولی باتوں پہ تیری دل کو یقیںپہلے آتا تھا اب نہیں آتا

دکھ وہ دیتا ہے اس پہ ہے یہ حاللینے جاتا ہوں جب نہیں آتا

آرزوؔ بے اثر محبت چھوڑکیوں کرے کام جب نہیں آتا

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں