5 اشعار

آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھی

Aankhon ne bahut din se qayamat nahin dekhi

آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھی

«آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھی» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھیمدت ہوئی اچھی کوئی صورت نہیں دیکھی

چہروں کی طرح کس لیے مرجھائے ہوئے ہیںپھولوں نے تو ہم جیسی مصیبت نہیں دیکھی

وہ شہر سے گزرا تھا فقط یاد ہے اتناپھر کوئی بھی دستار سلامت نہیں دیکھی

لوٹے جو مسافت سے تو میں اس سے یہ پوچھوںبستی تو کوئی راہ میں غارت نہیں دیکھی

گرتے ہوئے پتوں کی صدائیں مرے دل سےکہتی ہیں کہ تو نے کوئی ہجرت نہیں دیکھی

— اسعد بدایونی