6 اشعار

نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو

Nai zameen naya aasman talash karo

نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو

«نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

نئی زمین نیا آسماں تلاش کروجو سطح آب پہ ہو وہ مکاں تلاش کرو

نگر میں دھوپ کی تیزی جلائے دیتی ہےنگر سے دور کوئی سائباں تلاش کرو

ٹھٹھر گیا ہے بدن سب کا برف باری سےدہکتا کھولتا آتش فشاں تلاش کرو

ہر ایک لفظ کے معنی بہت ہی اتھلے ہیںاک ایسا لفظ جو ہو بے کراں تلاش کرو

بہت دنوں سے کوئی حادثہ نہیں گزراکسی کے تازہ لہو کا نشاں تلاش کرو

ہر ایک کے راز سے واقف ہو کہہ رہے ہیں سبھیمرے بدن میں کوئی داستاں تلاش کرو

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں