6 اشعار

ابھی ہوس کے ہزاروں بہانے زندہ ہیں

Abhi hawus ke hazaron bahane zinda hain

ابھی ہوس کے ہزاروں بہانے زندہ ہیں

«ابھی ہوس کے ہزاروں بہانے زندہ ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

ابھی ہوس کے ہزاروں بہانے زندہ ہیںنئی رتوں میں شجر سب پرانے زندہ ہیں

فضائے مہر و محبت کی داغداری کودھواں اگلتے ہوئے کارخانے زندہ ہیں

مجاوران تمنا تو مر گئے کب کےدرون جسم کئی آستانے زندہ ہیں

جواز کوئی نہیں ہجرتوں سے بچنے کاہم اس دیار میں کس کے بہانے زندہ ہیں

عجب طلسم ہے جنگل کے ان درختوں کاپرندے مر بھی چکے آشیانے زندہ ہیں

کھدائیوں میں ملے گا گدائے عشق کا تاجسر زمیں تو ہوس کے زمانے زندہ ہیں

— اسعد بدایونی