6 اشعار

خوشی بھی اب سراپا غم لگے ہے

Khushi bhi ab saraapa gham lage hai

خوشی بھی اب سراپا غم لگے ہے

«خوشی بھی اب سراپا غم لگے ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

خوشی بھی اب سراپا غم لگے ہےتوجہ آپ کی کچھ کم لگے ہے

کوئی ہم دم نہیں دنیا میں لیکنجسے دیکھو وہی ہم دم لگے ہے

میں ہوں مجبور اپنے دل سے مجھ کوپرایا غم بھی اپنا غم لگے ہے

بہاریں ہیں چمن میں گل بداماںخزاں کا سا مگر موسم لگے ہے

جدھر دیکھو ادھر شبنم کے آنسوچمن کیا ہے صف ماتم لگے ہے

ہر اک مجبور سے کہہ دو یہ اسعدؔہر اک مغرور کا سر خم لگے ہے

— اسعد بدایونی