6 اشعار

ابھی زمین کو سودا بہت سروں کا ہے

Abhi zameen ko sauda bohot saron ka hai

ابھی زمین کو سودا بہت سروں کا ہے

«ابھی زمین کو سودا بہت سروں کا ہے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

ابھی زمین کو سودا بہت سروں کا ہےجماؤ دونوں محاذوں پہ لشکروں کا ہے

کسی خیال کسی خواب کے سوا کیا ہیںوہ بستیاں کہ جہاں سلسلہ گھروں کا ہے

افق پہ جانے یہ کیا شے طلوع ہوتی ہےسماں عجیب پر اسرار پیکروں کا ہے

یہ شہر چھوڑ کے جانا بھی معرکہ ہوگاعجیب ربط عمارت سے پتھروں کا ہے

وہ ایک پھول جو بہتا ہے سطح دریا پراسے خبر ہے کہ کیا دکھ شناوروں کا ہے

اتر گیا ہے وہ دریا جو تھا چڑھاؤ پربس اب جماؤ کناروں پہ پتھروں کا ہے

— اسعد بدایونی