7 اشعار

ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیں

Hijr ke mausam mein yaadein wasl ki raaton mein hain

ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیں

«ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیںکچھ گلے شکوے یقیناً سب مناجاتوں میں ہیں

دھوپ کے موسم میں تھے پایاب دریا سب مگرکیسے کیسے خشک منظر اب کے برساتوں میں ہیں

ہیں معطر اب بھی شامیں تیری خوشبو کے طفیلضو فشاں جگنو ترے اب بھی مری راتوں میں ہیں

تشنگی صدیوں کی قربت سے نہ بجھ پائی مریلوگ کتنے مطمئن تھوڑی ملاقاتوں میں ہیں

دوسروں نے اپنی تقدیروں کے بل سلجھا لئےزلف پیچاں ہم ابھی الجھے تری باتوں میں ہیں

بس گئے شہر حقیقت میں وہ جن کے دل نہیںاہل دل تو اب بھی خوابوں کے مضافاتوں میں ہیں

آج ٹوٹے گا یقیناً پھر طلسم آئنہسارے چہرے مشتعل ہیں سنگ سب ہاتھوں میں ہیں

— اسعد بدایونی