5 اشعار

عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا

Ajab din the ke in aankhon mein koi khwab rehta tha

عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا

«عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھاکبھی حاصل ہمیں خس خانہ و برفاب رہتا تھا

ابھرنا ڈوبنا اب کشتیوں کا ہم کہاں دیکھیںوہ دریا کیا ہوا جس میں سدا گرداب رہتا تھا

وہ سورج سو گیا ہے برف زاروں میں کہیں جا کردھڑکتا رات دن جس سے دل بیتاب رہتا تھا

جسے پڑھتے تو یاد آتا تھا تیرا پھول سا چہرہہماری سب کتابوں میں اک ایسا باب رہتا تھا

سہانے موسموں میں اس کی طغیانی قیامت تھیجو دریا گرمیوں کی دھوپ میں پایاب رہتا تھا

— اسعد بدایونی