5 اشعار

چمک رہا ہے مرا سر بھی میں بھی دنیا بھی

Chamak raha hai mera sar bhi main bhi duniya bhi

چمک رہا ہے مرا سر بھی میں بھی دنیا بھی

«چمک رہا ہے مرا سر بھی میں بھی دنیا بھی» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

چمک رہا ہے مرا سر بھی میں بھی دنیا بھیاک آئینہ ہے سمندر بھی میں بھی دنیا بھی

کھلا کہ ایک ہی رشتے میں منسلک ہیں تمامیہ میرا سر بھی یہ پتھر بھی میں بھی دنیا بھی

کسی گناہ کی پاداش میں ہیں سب زندہمرے شجر مرے منظر بھی میں بھی دنیا بھی

اتر رہے ہیں سبھی اک نشیب کی جانببلندیوں سے یہ پتھر بھی میں بھی دنیا بھی

خبر کسی کو کسی کی نہیں یہاں لیکنہوا کی زد پہ گل تر بھی میں بھی دنیا بھی

— اسعد بدایونی