5 اشعار

داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھی

Dastan-e-wasl ki ek baat se aage na badhi

داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھی

«داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھی» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھیآپ کی شکوہ شکایت سے آگے نہ بڑھی

لاکھ روتی رہی جلتی رہی افسوس مگرزندگی شمع کی اک رات سے آگے نہ بڑھی

تو جفا کیش رہا اور میں وفا کوش رہابات تیری بھی مری بات سے آگے نہ بڑھی

یوں تو آغاز محبت میں بڑے دعوے تھےدوستی پہلی ملاقات سے آگے نہ بڑھی

مل گئے جب وہی شکوے وہی قصے اسعدؔیہ خرافات خرافات سے آگے نہ بڑھی

— اسعد بدایونی