5 اشعار

تلاش رزق میں دیوان کرتا رہتا ہوں

Talash-e-rizq mein diwan karta rahta hoon

تلاش رزق میں دیوان کرتا رہتا ہوں

«تلاش رزق میں دیوان کرتا رہتا ہوں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

تلاش رزق میں دیوان کرتا رہتا ہوںابھی سفر نہیں سامان کرتا رہتا ہوں

خود اپنی راہ میں اکثر پہاڑ اگاتا ہوںخود اپنی مشکلیں آسان کرتا رہتا ہوں

سجاتا رہتا ہوں کاغذ کے پھول شاخوں پرمیں تتلیوں کو پریشان کرتا رہتا ہوں

میں تخم اشک سے طوفاں اگانے کی ضد میںتمام شہر کو حیران کرتا رہتا ہوں

مرے مکاں میں دھواں بھی گھٹن بھی ہے لیکنمیں خوشبوؤں کو بھی مہمان کرتا رہتا ہوں

— اسعد بدایونی