6 اشعار

دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں

Diyār-e-ishq kī sham'eñ jalā to sakte haiñ

دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں

«دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیںخوشی ملے نہ ملے مسکرا تو سکتے ہیں

ہمیشہ وصل میسر ہو یہ ضروری نہیںدو ایک دن کو ترے پاس آ تو سکتے ہیں

جو راز عشق ہے ان کو چھپائیں گے لیکنجو داغ عشق ہیں سب کو دکھا تو سکتے ہیں

ہم امتحان میں ناکام ہوں یہ رنج نہیںاسی میں خوش ہیں کہ وہ آزما تو سکتے ہیں

نسیم صبح کے جھونکے ہیں خوش گوار مگرکبھی کبھی یہ دلوں کو دکھا تو سکتے ہیں

یہی بہت ہے کہ اس خار زار دنیا میںتجھے ہم اپنے گلے سے لگا تو سکتے ہیں

— اسعد بدایونی