6 اشعار

وہ لوگ بھی کیسے لوگ ہیں جو کوئی بات فضول نہیں کرتے

Vo log bhī kaise log haiñ jo koī baat fazūl nahīñ karte

وہ لوگ بھی کیسے لوگ ہیں جو کوئی بات فضول نہیں کرتے

«وہ لوگ بھی کیسے لوگ ہیں جو کوئی بات فضول نہیں کرتے» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

وہ لوگ بھی کیسے لوگ ہیں جو کوئی بات فضول نہیں کرتےیہ سارے قصے جھوٹے ہیں ہم ان کو قبول نہیں کرتے

تمہیں علم نہیں ہے یقین کرو میں قریب سے جانتا ہوں ان کوکچھ سوداگر ایسے بھی ہیں جو قرض وصول نہیں کرتے

میں پتھر لے کر بیٹھا ہوں اور اس بستی کے دانا ابکیوں کار شیشہ گری کر کے مجھ کو مشغول نہیں کرتے

کسی رن میں ساتھ حسین کا دیں کس نہر سے پانی لے آئیںاس شہر کے سارے نوحہ گر کوئی ایسی بھول نہیں کرتے

مرے نام کے حرف چمکتے ہیں لیکن یہ چمک ہے شعلوں کیمیں ایک ایسی سچائی ہوں جسے لوگ قبول نہیں کرتے

مجھے بھول کے نادم مت ہونا اے اگلی نسلوں کے بچوہاں اپنے بزرگوں کا ماتم کبھی تازہ پھول نہیں کرتے

— اسعد بدایونی